Saturday, November 9, 2013

بدلتے احساس (2)




          معذرت، بدلتے احساس کو مکمل نہین کرسکا ، اسبات کا آحساس ہی نہیں رہا کہ لائیٹ جانے والی ہے۔ خیر ایسا تو ہوتا ہی ، اور ہوتا رہے گا، یہ بھی احساس کی بات ہے، اس سے قبل ہم قومون کے آحساس کی بات کر رہے تھے، اور زیادہ دور کی بات نہیں، جب قومون میں آحساس ذ مہ داری جاگ اُتھتا ہے، تو وہ ترقی کی منزلیں طے کرتی چلی جاتی ہیں، اسمیں چند مثالیں ۔ سامنے ہین۔ چائینا، ویت نام، اور بھی کئی مثالیں ، ہین جو دی جاسکتی ہیں۔

        جب اس احساس کا کوئی خوگر، قومون کی زندگی بدلنے کی بات کرتا ہے، تو اسے اسکی قیمت بھی چکانی پڑتی ہے، اور جب یہ احساس قومون میں آتا ہے تو ، اسکی بھی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ پھر نقصانات کی طرف نہپیں دیکھا جاتا، بس اک روانی ہوتی ہے۔ جو سیلاب کی طرح آتی ہے اور بہت کچھ بھا کر لے جاتی ہے۔ گندگی صاف ہوجاتی ہے، اور ان کی جگہ، نئی کونپلیں نکلتی ہیں، نئے گھر بنتے ہیں، کچھ لوگ تعمیر اور ترقی میں لگ جاتے ہیں، اور کچھ نئے ضابطے اور آصول وضع کرتے ہیں۔ اور قومیں ترقی کی منزلیں طے کرتی چلی جاتی ہیں۔ اور ایسی قومون کا قررت بھی ساتھ دیتی ہے۔

      پاکستان بھی اسی طرح کے احساسِ کی وجہ لسے وجود میں آیا۔ وہ احساس دو قومی نظریہ کا آحساس تھا۔ ایک قوم کے تشخص کا احساس، مذہبی تقدس کا احسا س ، ترِ بودباش کا احساس، معاشی استہسال کا احساس۔ یہ وہ چیزین لتھیں، جنہون نے مسلمانون میں اسبات احساس پیدا کیا ، کہ اس مذہبی تقدس کی حفاظت کیسے کی جائے، اسکے لئے سب سے پہلئ سر سید احمد خان، کی علی گڑھ اسلامک یونیورسٹی ، نے بہت کام کیا، اور پھر یہ احساس حضرت قاید اعظم محمد علی جناح، کو سامنے لایا۔ اور پاکستان کا قیام دونظریاتی قومون کی علیحدگی کی بنیاد بنا، اسی وقت مین علامہ آقبال نے دو قومون کی نظریاتی اساس کا فرمولا پیش کیا۔

    1947، 14 اگست ، کو پاکستان ایک نظریاتی ریاست بنکر دنیا کے نقشے پر ابھرا، اور تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت عمل میں آئی، ایک قوم ایک نیا احساس لیکر وجود میں آئی، یہ تھا پاکستان کا مطلب کیا،" لا الہٰ اللہ ، یعنی اس خالق، مالک، رازق کی حکومت ہوگی، اور اسی کے قانون رائج ہوگا ۔ یہ دنیا کی واحد ریاست بنی جو نظریاتی احساس کی بنیاد پر بنی۔

      آج اس نظریاتی ریاست کو بنے ہوئے 65/66 سال ہوگئے، اس دوران قوم نے احساس کی بہت سی کروٹین لیں، -اور اج ہماری اسی پر بحث ہے۔
      مجھے یاد ہے، جب میں چھوٹا ہوتا تھا، تو اگر کسی ہندو، یا عیسائی جو زیادہ طر جمعدار، اور جھاڑو لگانے والے ہوتے تھے، اگر کسی کو پیاس لگتی تھی تو وہ کسی گھر کا دروازہ بجاتا تھا، اور پانی مانگتا تھا، اور ہاتھون کی اوک بناکر پانی پیا کرتا تھا، برٰبرتن کو ہاتھ نہں لگاتا تھا، بعد میں بعض لوگون نے ہوٹلون پر اور گھرون میں انکے لئے الگ گلاس اور برتن رکھنا شروع کردئے۔ اور میرا خیال ہے اگر آج بھی آپ ہندوستان چلے جائیں، تو انکا آپ کے ساتھ یہی رویہ ہے۔ یہ آپ انکے برتن کو، اور نہ انکو ہاتھ لگا سکتے ہیں۔ جبکہ آج آپ کسی ہوٹل میں جائیں ، آپ اندازی نہیں کرسکتے، کہ آپ کے سامنے بیٹھکر کھانے والا شخص ، عیسائی ہے یا ہندو، پاک ہے یا پلید۔ جبتک آپ تحقیق نہ کریں۔
       مجھے یاد ہے ، میں مارکیٹ گوشت لینے جاتا تھا، تو قصائی، شکل صورت سے مسلمان لگتا تھا، اور اطمینان ہوتا تھا ، کہ گوشت ذبیحہ ہے، حلال ہے۔ اب آپ یا میں نہیں جانتے ، کہ گوشت حلال بھی ہے یا نہیں ۔ یہ بات نہ آپ جانتے ہیں، اور نہ ہی میں ۔ چند دن پہلے میرا ایک مذبحہ خانے جانے کا اتفاق ہوا ، ایک لڑکا گائے ذیبہ کر ریا تھا، اور جانور گراتے ہوئے گالیان بک رہا تھا، اور چھری اسنے اسطرح پھیر دی۔   دل خراب ہوا، میں نے اسکا نام پوچھا، اسنے بتایا ابراہیم ۔۔۔۔۔۔۔ اور جب میری نظر اسکے گلے پر پڑی ، اس نے کراس پہنا ہوا تھا۔ میں نے دوبارہ زور دیکر پورا نام پوچھا، اسکا پورا نام ابراہیم مسیح تھا۔۔۔ میں نے جاکر یہ بات ٹھیکیدار کو بتائی، تو اسکا جواب تھا ۔ یہ بھی تو اہل کتاب ہیں، ہزارون جانور روز کٹتے ہیں ۔ ہم تو بس جی چھری پر ایک ہی دفعہ اللہ اکبر کہہ دیتے ہیں، اور یہ لوگ کاٹتے رہتے ہیں ۔ (حرام ہوا حلال)
        ابھی چند دن پہلے ایک ٹی وی پروگرام (سرعام) مین ایک فلم دکھائی گئی، گدھے کو ذیبہ کرتے ہوئے، جسکا گوشت مارکیٹ میں سستے دامون فروخت ہورہا ہے۔ اسی پرگرام میں گوجرنوالہ کی ایک فیکٹری دیکھائی گئی جو کُکنگ آئل تیار کرتی ہے، جسمیں مردہ جانورون کی ہڈیان، اور دیگر لوزمات کو کشید کرکے کھانے کا تیل بنایا جارہا تھا، جو ہم پازار سے مہنگے دامون خرید کر خود بھی کھاتے ہیں، اور اپنے بچون کو بھی کھالاتے ہیں، جسمیں مردہ کتے، سور، گدھ، گدھے، گھوڑے، اور نہ جانے کون کون سے جانور شامل ہوتے ہیں۔ (حرام یا حلال)
         مذبہ خانون میں کٹنے والے جانورون کا خون ڈبون میں بھر کر رکھا جاتا ہے، اور چائے کی پتی میں شامل کیا جاتا ہے۔ اور یہی چائے ہم ہوٹلون میں بہٹھ کر پیتے ہیں۔

       اسلامی فلاہی ریاست پاکستان، کو جن لوگون نے قربانیان دے کرحاصل کیا تھا، وہ خالص لوگ کہان چلے گئے، پاکیزہ احساس رکھنے والی قوم اتنی جلدی غلاظت کے ڈھیر پر آبیٹھے گی، یہ وہ لوگ تو نہٰں، یہ قوم اتنی جلدی بدل جائے گی، سوچا بھی نہ تھا۔ لوگون کی دعائیں کام نہیں کرتین، نمازون میں اثر نہیں دل نہیں کرتا ، مان بات سے بغاوت، جنسی بیماریان، ذہنی بیماریان، صبر اور تحمل کا فقدان، ہر ایک بلڈ پریشر کا مریض، (احساس کو نظر لگ گئی یا مر گیا)  

        ایک جگہ میں نے پڑھا تھا، اگر کسی قوم کی غیرت کو اسکے تقدس کو کچلنا ہوتو اسکی عورت کو بے حیا ء کردو، کتابون کی جگہ ، ساز انکے ہاتھ میں دے دو۔ آج ہماری خواتین کے جسم پر کپڑے جیسے ہیں وہ آپ بھی جانتے ہیں، اور میں بھی، آج ہمارے بچون کے ہاتھ میں کتابون کی جگہ موبائیل فون ہیں، گھر میں ٹۓی ؤی، اور جو فلمیں ہم دیکھتے ہیں، کیا وہ اس قابل ہیں، کہ دیکھی جائیں۔ (احساس بدل گیا۔۔۔۔ نظریہ فناہ ہوگیا)

        بس اب اور کیا لکھون، کس کے آگے رؤن، کس سے شکوہ کرون، مردہ لوگ بے احساس لوگ، جب قومون مین حلال حرام کی تمیز ختم ہوجاتی ہے۔ تو یہی کچھ ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ حلال ۔۔۔۔۔حلال ہے کہان، نہ آپ جانتے ہپیں نہ میں جانتا ہون، کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے۔ یہی حال ہمارے لیڈرون کا ہے۔۔۔ کون جانے کون حلال کا ہے اور کون حرام کا ہے۔۔۔۔ احساس اتنا بدل جائے گا۔  کہ دل میں درد بھی نہیں ہوگا۔ ۔۔۔ اتنی بچیون کے ساتھ زیادتی ہوئی، ہوجانے دو، ہماری بیٹی ، ہماری بچی تو گھر میں ہے، اتنے نوجوان فائیرگ سے مر گئے،  فون کرو بچے تو گھر پر ہیں، باہر نہ نکلنے دینا فائیرنگ ہوگئی ہے۔ میرے تو محفوظ ہیں۔ ،،،ارے مرنے دو روز ہی مرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی نئی بات نہیں، حکمران تعزیت کرتے ہیں۔ سوجاتے ہیں۔ ۔۔۔۔ بھٹو زندہ ہے بھٹو زندہ ۔۔۔بی بی زندہ ہے، بی بی زندہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ مر گئے تو صرف غریب کے بچے، بی بی مری، کروڑون ڈالر چھوڑ گئی،،،،،،،،،غریب مر گیا۔۔۔۔۔۔ تین بیٹیان ۔۔۔۔اور ایک بیٹا چھوڑ گیا ۔۔۔۔۔۔  (صرف 66 سال میں ہی احساس اتنا بدل گیا )
           ائے اللہ کوئی حلال کا دے ۔۔۔۔۔۔۔ حرام دے تو بہت دیکھے ۔۔۔۔۔۔ائے اللہ اب کرم کر دے۔ بہت ہوگئی ائے اللہ ۔۔۔۔ تو تو سب دیکھ رہا ہے، ایک قوم کم تولتی تھی، تو نے بندر بنا دیا ۔۔۔۔۔ائے اللہ ان میں سے دوچار کو ہی بندر بنادے،،، لیکن کچھ نہین ہوگا۔ کچھ نہیں ہوگا   ،،،جب تک احساس نہیں بدلے گا ۔۔۔۔۔۔ ائے اللہ تو ہی کرم کردے            (وسلام ،،،،فاروق سعید قریشی)

Friday, October 11, 2013

بلاعنوان

تمام ساتھیون کو میرا سلام، یہ میرا پہلا بلاگ ہے ، اور سوچ رہا پون کہان سے شروع کرون ، اللہ کا نام لیکر ابتدا کردی ہے۔ تو اب جو دل مین آئیگا لکھونگا۔ اگر کسی کو پسند نہ بھی آئے تو، اور آئے بھی ، دونون صورتون مین تنقید ضرور کیجئےگا ۔ اللہ آپ کا بھلا کرے گا۔ دوباتین ہونگی، یا تو لکھنا چھوڑ دونگا ۔ دوسری صورت میں اپنے بڑھاپے کا خوب فائیدہ اُٹھاؤنگا۔

        میری عمر سچ لکھ رہا ہون، 62 سال ہے، ایک چھوٹا سا گھر ہے، جیسے سب کی ہوتی ہے، ایک عدد گھر والی بھی ہے، دوبیٹے، ایک بیٹی ، ایک بہوءرانی اور دو بہت ہی گڑیا سی پوتیان ہیں۔ کوئی کام کاج نہیں فارغ الوبال ہون۔ زندگی کی ایک گردان ہے، حسب معمول صبح اُٹھتا ہون، نماز، تھوڑی سی تلاوت، اتنی دیر میں میری والی نماز سے فارغ ہوکر چائے بناتی ہے، ہم دونون چائے پیتے ہیں، بہؤ رانی بھی نمازسے فارغ ہوکر گھر کے کام کاج اور صفائی میں لگ جاتی ہیں، اور سات بجے ہم تیار ہوکر، پہلے اپنی پوتی کو اسکول ، پھر بیٹی کو کالج، چھوڑنے جاتے ہیں، واپسی ہر سبزی گوشت بھی لے آتے ییں، اور ناشتہ کرکے اخبار لیکر اپنے کمرے ہیں آجاتے ہیں۔
       اللہ بھلا کرے بڑے بیٹے کا ایک دن کہنے لگا، ابو آپ سارا دن کیا کرتے ہیں، میں نے جواب دیا ۔ بھیا آپ بتاؤ کیا کریں، آپ لوگون نے ہی ، بوڑھے ہو بوڑھے ہو کہہ کہہ کر گھر میں بٹھا دیا۔ آج یہ سوال کیون، اگر کوئی مسلئہ ہے تو بتادو بھیاء ہم بھی بیٹھے بیٹھے تنگ آچکے ہیں۔ کوئی کام کاج ڈھونڈ لیتے ہیں۔ وہ بولے ارے ارے ابو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں تو اس لئے کہہ رہا تھا۔ اگر آپ چاہیں تو میں آپکو ایک عدد کمپیوٹر لادون، فارغ اوقات میں آپ اسپر تمام رشتہدارون سے آن لائن ہوکر بات بھی کر سکتے ہیں۔ اور بھی بہت سے کام لے سکتے ہیں۔ ہمیں اور کیا چائیے تھا، دل میں سوچا چلو گھر بیٹھے دنیا سے لاتعلق تو نہیں رہیں گے۔ اور جو بیگم موبائیل کارڈ پر جو چک چک کرتین ہیں وہ بھی ختم ہوجائے گی۔
       دوسرے دن بڑے صاحب نے لاکر دے دیا، اب مثلہ تھا سیکھائے گا کون، اللہ بھلا کر بہؤ رانی کا ، ویسے یار اچھی بہؤ بھی اللہ پاک کی نعمت ہوتی ہے۔ اور ہم تو اسے اپنی کسی نیکی کا پدل سمجھتے ہیں۔ بیچاری بہت خیال کرتی ہے روزانہ گیارہ بجے اپنی ساس کی ڈانٹ سنتی ہے، ہمیں خاموشی سے چائے لاکر دینے پر۔ بہت کوشش کرتی ہے، امان کو پتہ نہ چلے ، لیکن وہ ساس ہی کیا جسکی نظر گھر کی ہر نقل و حمل پر نہ ہو۔
        بھئی یہ بہؤ رانی بھی ہمیں بڑی مشکل سے ملی، پورا ایک سال کراچی مین در در پھرے، نہ دھوپ دیکھی نہ رات، نہ شام، جس نے کوئی رشتہ بتایا، پہنچ گئے۔ لیکن کہیں بھی ہمارے دل کی گھنٹی نہیں بجی۔ ایک شام مسجد میں بیٹھے اللہ پاک سے ایک عدد بہؤ مانگ رہے تھے، ہمارے ایک دوست بھائی اسحاق ، قریب آکر بیٹھ گئے، دعا کے بعد پوچھنے لگے ، بھائی فاروق کیا بات ہے ۔ آج اتنی لمبی دعا، خیر تو ہے۔ میں نے جواب دیا ۔ بھائی کیا بتائیں، اللہ پاک سے ایک ہی دعا مانگ رہے ہیں ۔ ایک عدد بہؤ چائیے، لیکن ابھی تک منظوری نہیں آرہی۔ تھوڑی دیر وہ خاموش رہے، پھر اچانک بولے ، لوجی آپ کے لیئ بہؤ مل گئی، لیکن ایک شرظ ہے، بھائی وہ کیا، اگر وہان رشتہ ہوگیا تو ۔ آپکو ہمارے ساتھ جماعت مین چلہۃ لگانا پڑے گا۔ میں نے فورآ حامی بھر لی، انہون نے مجھے لڑکی کے والد کا نام بتایا، گھر کا ایڈریس دیا، اور کہا کل ہی چلیے جائیں انکے گھر اور لڑکی والون سے ملیں۔ باقی بات اور انہیں اطلاع میں دے دونگا۔۔
       لوجی دوسرے دن ہم گھر والی کو لیکر شام مین انکے گھر گئے، سلطان صاحب سے ملاقات ہوئی، انکی بیگم سے ہماری والی لپٹی رہیں، اتنی دیر مین ہماری موجودہ بہؤ رانی ترے مین چائے لئے آئیں، سلام کیا ، ہم نے جواب دیا، اور ہمارے دل کی گھنٹی بار بار بجنے لگی۔۔ٹن ٹن ٹن ۔۔ چائے پی، اور گھر واپس آگئے، مشورہ کیا بڑے صاھب سے پوچھا، اور چار مہینے میں ہم اسے دلہن بنا کر گھر لے آئے، شادی کے چار دن بعد بھائی اسحاق نے مسجد میں پکڑلیا۔ کہ بھائی وعدہ پورا کرو ۔ اور چلو چلہ لگانے۔ اور اس طرح ہم نے بستر باندھا اور جماعت کے ساتھ رائےونڈ روانہ ہوگئے۔
      اسطرح اللہ پاک نے ہمیں دو چیزین عطاء فرمائیں ۔ ایک نیک خدمت گزار ، با اخلاق، بہؤرانی ، اور دوسرا ہمیں اللہ کے  راستے مین نکلنے کا موقع عطاء فرمایا ۔ اور ہمارے لئے ہدایت ، عبادت، اور حس، اخلاق کے نئے دروازے کھلے۔ گئے تھے چالیس دن کے لئے، لگا آئے تین چلےُٰٰ ۔ چار ماہ ۔ کچھ عبادت کا سلیقہ ، کچھ تلاوت کا طریقہ، کچھ اللہ سے مانگنے کا انداز سیکھا ۔
     اللہ سے ہونے کا یقین، نبی کریم کے طریقون پر چل کر دین اور دنیا مین کامیابی کا یقیں کے چند گوہر ملے وہ لیکر واپس ہوئے ۔۔۔۔ دل تو نہٰں کرتا ختم کرون ۔ اب آپ کی حوصلہ افزائی، کا انتظار ہے۔

                                                                                                                               مخلص ۔ فاروق سعید قریشی