Friday, October 11, 2013

بلاعنوان

تمام ساتھیون کو میرا سلام، یہ میرا پہلا بلاگ ہے ، اور سوچ رہا پون کہان سے شروع کرون ، اللہ کا نام لیکر ابتدا کردی ہے۔ تو اب جو دل مین آئیگا لکھونگا۔ اگر کسی کو پسند نہ بھی آئے تو، اور آئے بھی ، دونون صورتون مین تنقید ضرور کیجئےگا ۔ اللہ آپ کا بھلا کرے گا۔ دوباتین ہونگی، یا تو لکھنا چھوڑ دونگا ۔ دوسری صورت میں اپنے بڑھاپے کا خوب فائیدہ اُٹھاؤنگا۔

        میری عمر سچ لکھ رہا ہون، 62 سال ہے، ایک چھوٹا سا گھر ہے، جیسے سب کی ہوتی ہے، ایک عدد گھر والی بھی ہے، دوبیٹے، ایک بیٹی ، ایک بہوءرانی اور دو بہت ہی گڑیا سی پوتیان ہیں۔ کوئی کام کاج نہیں فارغ الوبال ہون۔ زندگی کی ایک گردان ہے، حسب معمول صبح اُٹھتا ہون، نماز، تھوڑی سی تلاوت، اتنی دیر میں میری والی نماز سے فارغ ہوکر چائے بناتی ہے، ہم دونون چائے پیتے ہیں، بہؤ رانی بھی نمازسے فارغ ہوکر گھر کے کام کاج اور صفائی میں لگ جاتی ہیں، اور سات بجے ہم تیار ہوکر، پہلے اپنی پوتی کو اسکول ، پھر بیٹی کو کالج، چھوڑنے جاتے ہیں، واپسی ہر سبزی گوشت بھی لے آتے ییں، اور ناشتہ کرکے اخبار لیکر اپنے کمرے ہیں آجاتے ہیں۔
       اللہ بھلا کرے بڑے بیٹے کا ایک دن کہنے لگا، ابو آپ سارا دن کیا کرتے ہیں، میں نے جواب دیا ۔ بھیا آپ بتاؤ کیا کریں، آپ لوگون نے ہی ، بوڑھے ہو بوڑھے ہو کہہ کہہ کر گھر میں بٹھا دیا۔ آج یہ سوال کیون، اگر کوئی مسلئہ ہے تو بتادو بھیاء ہم بھی بیٹھے بیٹھے تنگ آچکے ہیں۔ کوئی کام کاج ڈھونڈ لیتے ہیں۔ وہ بولے ارے ارے ابو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں تو اس لئے کہہ رہا تھا۔ اگر آپ چاہیں تو میں آپکو ایک عدد کمپیوٹر لادون، فارغ اوقات میں آپ اسپر تمام رشتہدارون سے آن لائن ہوکر بات بھی کر سکتے ہیں۔ اور بھی بہت سے کام لے سکتے ہیں۔ ہمیں اور کیا چائیے تھا، دل میں سوچا چلو گھر بیٹھے دنیا سے لاتعلق تو نہیں رہیں گے۔ اور جو بیگم موبائیل کارڈ پر جو چک چک کرتین ہیں وہ بھی ختم ہوجائے گی۔
       دوسرے دن بڑے صاحب نے لاکر دے دیا، اب مثلہ تھا سیکھائے گا کون، اللہ بھلا کر بہؤ رانی کا ، ویسے یار اچھی بہؤ بھی اللہ پاک کی نعمت ہوتی ہے۔ اور ہم تو اسے اپنی کسی نیکی کا پدل سمجھتے ہیں۔ بیچاری بہت خیال کرتی ہے روزانہ گیارہ بجے اپنی ساس کی ڈانٹ سنتی ہے، ہمیں خاموشی سے چائے لاکر دینے پر۔ بہت کوشش کرتی ہے، امان کو پتہ نہ چلے ، لیکن وہ ساس ہی کیا جسکی نظر گھر کی ہر نقل و حمل پر نہ ہو۔
        بھئی یہ بہؤ رانی بھی ہمیں بڑی مشکل سے ملی، پورا ایک سال کراچی مین در در پھرے، نہ دھوپ دیکھی نہ رات، نہ شام، جس نے کوئی رشتہ بتایا، پہنچ گئے۔ لیکن کہیں بھی ہمارے دل کی گھنٹی نہیں بجی۔ ایک شام مسجد میں بیٹھے اللہ پاک سے ایک عدد بہؤ مانگ رہے تھے، ہمارے ایک دوست بھائی اسحاق ، قریب آکر بیٹھ گئے، دعا کے بعد پوچھنے لگے ، بھائی فاروق کیا بات ہے ۔ آج اتنی لمبی دعا، خیر تو ہے۔ میں نے جواب دیا ۔ بھائی کیا بتائیں، اللہ پاک سے ایک ہی دعا مانگ رہے ہیں ۔ ایک عدد بہؤ چائیے، لیکن ابھی تک منظوری نہیں آرہی۔ تھوڑی دیر وہ خاموش رہے، پھر اچانک بولے ، لوجی آپ کے لیئ بہؤ مل گئی، لیکن ایک شرظ ہے، بھائی وہ کیا، اگر وہان رشتہ ہوگیا تو ۔ آپکو ہمارے ساتھ جماعت مین چلہۃ لگانا پڑے گا۔ میں نے فورآ حامی بھر لی، انہون نے مجھے لڑکی کے والد کا نام بتایا، گھر کا ایڈریس دیا، اور کہا کل ہی چلیے جائیں انکے گھر اور لڑکی والون سے ملیں۔ باقی بات اور انہیں اطلاع میں دے دونگا۔۔
       لوجی دوسرے دن ہم گھر والی کو لیکر شام مین انکے گھر گئے، سلطان صاحب سے ملاقات ہوئی، انکی بیگم سے ہماری والی لپٹی رہیں، اتنی دیر مین ہماری موجودہ بہؤ رانی ترے مین چائے لئے آئیں، سلام کیا ، ہم نے جواب دیا، اور ہمارے دل کی گھنٹی بار بار بجنے لگی۔۔ٹن ٹن ٹن ۔۔ چائے پی، اور گھر واپس آگئے، مشورہ کیا بڑے صاھب سے پوچھا، اور چار مہینے میں ہم اسے دلہن بنا کر گھر لے آئے، شادی کے چار دن بعد بھائی اسحاق نے مسجد میں پکڑلیا۔ کہ بھائی وعدہ پورا کرو ۔ اور چلو چلہ لگانے۔ اور اس طرح ہم نے بستر باندھا اور جماعت کے ساتھ رائےونڈ روانہ ہوگئے۔
      اسطرح اللہ پاک نے ہمیں دو چیزین عطاء فرمائیں ۔ ایک نیک خدمت گزار ، با اخلاق، بہؤرانی ، اور دوسرا ہمیں اللہ کے  راستے مین نکلنے کا موقع عطاء فرمایا ۔ اور ہمارے لئے ہدایت ، عبادت، اور حس، اخلاق کے نئے دروازے کھلے۔ گئے تھے چالیس دن کے لئے، لگا آئے تین چلےُٰٰ ۔ چار ماہ ۔ کچھ عبادت کا سلیقہ ، کچھ تلاوت کا طریقہ، کچھ اللہ سے مانگنے کا انداز سیکھا ۔
     اللہ سے ہونے کا یقین، نبی کریم کے طریقون پر چل کر دین اور دنیا مین کامیابی کا یقیں کے چند گوہر ملے وہ لیکر واپس ہوئے ۔۔۔۔ دل تو نہٰں کرتا ختم کرون ۔ اب آپ کی حوصلہ افزائی، کا انتظار ہے۔

                                                                                                                               مخلص ۔ فاروق سعید قریشی


No comments:

Post a Comment